نئی دہلی،10 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) الیکشن کمیشن نے لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔اس بار 7 مراحل میں لوک سبھا انتخابات ہوں گے اور 23 مئی کو نتائج آئیں گے۔چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام ایجنسیوں سے رائے لی۔ انتخابی اخراجات پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی۔تہوار کا خیال رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس بار الیکشن میں 90 کروڑ لوگ ووٹ ڈالیں گے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم انتخابات کے لئے کافی پہلے ہی تیاری کر رہے تھے۔تمام ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے الیکشن کمشنر سے بات کی۔انہیں تیاری کرنے کے لئے کہہ دیا گیا تھا۔لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن بھی جانچی گئی۔یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہی آج ہم انتخابات کا اعلان کرنے کی حالت میں ہیں۔
یہ ہیں مرحلہ وار انتخابات کی تاریخیں:
پہلا مرحلہ ۔ 11 اپریل، 91 سیٹ، 20 ریاست
دوسرا مرحلہ ۔ 18 اپریل، 97 سیٹ، 13 ریاست
تیسرا مرحلہ۔ 23 اپریل 115 نشستیں، 14 ریاست
چوتھا مرحلہ ۔ 29 اپریل 71 نشستیں، 09 ریاست
پانچواں مرحلہ ۔ 06 مئی 51 سیٹ 07 ریاست
چھٹا مرحلہ ۔ 12 مئی 59 سیٹ 7 ریاست
ساتواں مرحلہ ۔ 19 مئی 59 نشستیں، 08 ریاست
چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس بار ای وی ایم مشینوں کی حفاظت کا پورا خیال رکھا جا رہا ہے۔آج ہی سے ضابطہ اخلاق نافذ ہوگیا ہے۔کسی بھی قسم کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی۔تمام امیدواروں کو اپنی ملکیت اور تعلیم کی تفصیلات دے گا۔ فارم 26 بھرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال رات 10 سے صبح چھ تک بند رکھیں گے۔ہمارا فوکس آواز آلودگی کو کم کرنا ہے۔سی آر پی ایف کو بڑی تعداد میں تعینات کیا جائے گا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس بار ایک ایپ بھی لانچ کریں گے، جس کی مدد سے کوئی بھی ووٹر کسی بھی قوانین کی خلاف ورزی کو کیمرے میں قید کرکے براہ راست ہمیں بھیج سکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس بار ویب پورٹل بھی ہوگا، عوام اس پورٹل کے ذریعے رائے دے سکیں گے۔ساتھ ہی تمام بوتھ پر سی سی ٹی وی کیمرے ہوں گے۔ الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹروں تک پہنچنے کے لئے ہر طرح کی کوشش کی گئی ہے۔ہم ایک بھی ووٹر نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جائے گی۔سوشل میڈیا پر کیپینگ کا خرچہ بھی شامل کیا جائے گا۔ آپ کو بتا دیں کہ موجودہ لوک سبھا کی مدت 3 جون کو ختم ہو جائے گی۔ سال 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی پہلی ایسی پارٹی بنی تھی جس میں تین دہائیوں میں پہلی مکمل اکثریت پائی تھی۔بی جے پی کو 282 سیٹیں ملی تھیں۔جبکہ این ڈی اے کو 336 سیٹیں ملی تھیں۔وہیں کانگریس اس الیکشن میں بری طرح ہاری تھی اور اسے صرف 44 سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس کی حالت ایسی تھی کہ اسے اپوزیشن کی لیڈر کی کرسی حاصل کرنے کے لئے ضروری 10 فیصد سیٹیں بھی نہیں ملی تھیں۔ فی الحال ضابطہ اخلاق لگنے کے بعد اب حکومت کوئی بھی پالیسی ساز فیصلہ نہیں لے پائے گی۔